1,107

کیلے کی نئی قسم آ گئی

اسلام آباد۔ ( سی این پی ):پلانٹس سائنسز ڈویژن کے ممبر انچارج ڈاکٹر غلام محمد علی نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی ادارہ برائے جینو مکس و جدید بائیو ٹیکنالوجی، پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کیلے کی دو اقسام متعارف کرانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے ، دونوں اقسام باقاعدہ رجسٹرڈ کرا لیں گئیں ہیں ، کیلے کی نئی اقسام سے کیلے کی فی ایکٹر پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا ۔ اپنے ایک انٹر ویو میں میں پی ایس ڈی کے ممبر انچارج ڈاکٹر غلام محمد علی نے بتایا کہ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کیلا تقریباً اسی 80000 ہزار ایکڑ پر لگایا جاتا ہے۔ پاکستان میں کیلے کی فی ایکڑ پیداوار انڈیا اور چین کے مقابلے میں کم ہے جو کہ ایک ایکڑ سے 10 ٹن سے بھی زیادہ پیداوار حاصل کرتے ہیں۔


اس کم پیداوار کی بنیادی وجوہات زیادہ پیداواری اقسام اور بیماری سے پاک رجسٹرڈ اقسام کا میسر نہ ہونا ہے۔پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل نے کیلے کی 2 اقسام بنا لی ہیں جن کو NIGAB-1 اور NIGAB-2 کا نام دیا گیا ہے۔اور ان دونوں اقسام کو کاشت کرنے کی اجازت سندھ سیڈ کونسل نے اپنی چونتیسویں اجلاس میں دے دی ہے۔اس اجلاس کی صدارت وزیر زراعت سندھ اسماعیل رہو نے کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان اقسام کی پیداواری صلاحیت اور ذیادہ عرصہ تک کھانے کے قابل رہنے کی استطاعت زیادہ ہے جو کہ کیلے کو ایکسپورٹ کرنے کی بنیادی شرط ہے۔


ڈاکٹر علی نے بتایا کہ قومی جینیاتی ادارے کی ٹیم ان کی سربراہی میں زراعت میں مزید جدت لانے لے لیے نئے تجربات کر رہی ہے اور زراعت کے مختلف شعبوں میں زراعت کو جدید خطوط پر بہتر پیداوار کے ساتھ ترقی دی جاسکے۔انہوں نے بتایا کہ ہمیں اس کامیابی کا سہرہ ڈاکٹر عیش محمد کو دینے چاہیے جو کہ ٹیشو کلچر کے ماہر ہیں انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر دن رات بہت محنت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیلے کی ان اقسام کی کاشت کرنے سے ہمیں نہ صرف ملکی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ہم کیلا امپورٹ کرنے کے بجائے ایکسپورٹ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں